آغوش پنجتن پاک سیدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم صلوٰۃ اللہ و سلامہ علیہاٍٍٍ سیدہ فاطمہ بنت اسدنے علمی و روحانی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ کے دادا سیدنا ہاشم بن عبدمناف سردار قریش اور کعبۃ اللہ کے متولی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک با صلاحیت اور سخی انسان تھے۔ انہوں نے اپنے ہی خاندان کی ایک باوقار خاتون سے عقد کیا جن سے ایک صاحبزادے اسد تشریف لائے جو سیدہ فاطمہ بنت اسد کے والد تھے۔ قبائل عرب میں ہاشمی خاندان اپنی اخلاقی و روحانی اقدار اور انسان دوستی کی بلندیوں کے باعث منفرد احترام رکھتا تھا۔ وقاروعظمت، سخاوت وصداقت، شجاعت وبسالت اور ان گنت خصائل بنی ہاشم کا وصف ہیں۔ سیدنا عبدالمطلب جو کہ انتہائی دور اندیش اور معاملہ فہم انسان تھے، آپ کی فطرت، ذہانت اور بے پناہ صلاحیتوں کا اندازہ کرتے ہوئے آپ کو اپنے عالیقدر فرزند ارجمند سیدنا ابو طالب کے لئے منتخب فرمایا۔ آپ عرب کی عورتوں میںانتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھی جاتی تھیں۔ آپ کے عقد کے موقع پرتمام قبائل عرب نے شرکت کی اور بارگاہ عبدالمطلب میں تہنیت پیش کی۔ سیدنا ابو طالب نے اپنا خطبہ ء نکاح ان الفاظ میں ارشاد فرمایا: "سب تعریفیں پروردگار عالمین کے لئے ہیں جو عرش عظیم کا پروردگار ہے، جو مقام ابراہیم، مشعر الحرام اور حطیم کا پروردگار ہے۔ جس نے ہمیں سرداری، کعبہ کی دربانی اور خدمت، انتہائی بلند مقام دوستی، اور اپنی حجت کی سرداری کے لئے منتخب فرمایا۔ جس نے ہمارے لئے مشاعر کو قائم کیا اور ہمیں تمام قبیلوں پر فضیلت عطا فرمائی اور اس نے ہمیں آل ابراہیم میں سے چن لیا اور حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے قرار دیا۔ میں فاطمہ بنت اسد سے عقد کرتا ہوں، حق مہر ادا کرتا ہوں اور معاملہ نافذ کرتا ہوں، تم ان سے پوچھ لو اور گواہی دو"۔ جناب اسد نے فرمایا، "ہم نے ان کی آپ سے شادی کی اور ہم آپ سے راضی ہوئے "۔ اس کے بعد تمام عرب کے وفود کی ضیافت کی گئی۔ حضرت فاطمہ بنت اسدنے جناب ابو طالب کے ہمراہ زندگی گزارنا شروع کی۔ آپ نے گھر کے معاملات اور تمام تر مسائل کی ذمہ داریوں کو صبر و صداقت، خلوص، پاکیزہ سوچ، صاف دل، انتہائی محبت اور پاکیزگی کے ساتھ پورا کیا۔ آغوش مصطفٰی (ص):آپ فرمایا کرتی تھیں، "جب حضرت عبدالمطلب (ع) کا انتقال ہوگیا تو حضرت ابو طالب (ع) آپ کو (سیدنا محمد (ص)) اپنے ساتھ لے آئے۔ میں آپ (ص) کی خدمت کیا کرتی اور آپ (ص) مجھے "اماں" کہہ کر پکارا کرتے۔ ہمارے گھر کے باغیچہ میں کھجوروں کے درخت تھے۔ تازہ کھجوروں کے پکنے کا موسم شروع ہوا، حضرت محمد (ص) کے دوست بچے ہر روز ہمارے گھر میں آتے اور جو کھجوریں گرتیں وہ چن لیتے۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ سے پہلے کسی بچے نے کوئی کھجور اٹھائی اور محمد (ص) نے اس سے چھینی ہو، جب کہ دوسرے بچے ایک دوسرے سے چھینتے رہتے۔ میں ہر روز محمد (ص) کے لئے دونوں ہاتھ بھر کے چن لیتی۔ اسی طرح میری کنیز بھی دونوں ہاتھ بھر کے رکھ لیتی۔ ایک دن میں اور میری کنیز بھول گئیں اور ہم کھجوریں نہ چن سکیں۔ محمد (ص) سو رہے تھے۔ بچے داخل ہوئے اور جو بھی کھجوریں گری تھیں وہ چن کر چلے گئے۔ میں سو رہی اور محمد (ص) سے شرم و حیا کی وجہ سے اپنے چہرے کو ڈھانپ کر سو گئی۔ محمد (ص) بیدار ہوئے اور باغ میں تشریف لے گئے۔ لیکن وہاں زمین پر کوئی کھجور نظر نہ آئی سو واپس لوٹ آئے۔ کنیز نے ان سے کہا، "ہم کھجوریں چننا بھول گئے تھے، بچے آئے اور ساری کھجوریں جو گری ہوئی تھیں چن کر کھا گئے"۔ محمد (ص) دوبارہ باغ میں گئے اور ایک کھجور کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا، "مجھے بھوک لگی ہے"۔ میں نے دیکھا کھجور نے اپنے شگوفوں [شاخوں] کو جھکا دیا جن پر تازہ کھجوریں تھیں۔ محمد (ص) نے جی بھر کر کھا لیں، پھر وہ شگوفے اپنی جگہ پر واپس چلے گئے۔ مجھے بہت تعجب ہوا۔ حضرت ابو طالب (ع) ہر روز گھر سے باہر چلے جایا کرتے تھے۔ جب بھی واپس آتے تو دروازے پر دستک دیتے۔ میں کنیز سے کہتی کہ وہ دروازہ کھولے۔ ابو طالب (ع) نے دستک دی اور میں خود ننگے پاؤں دوڑتی ہوئی دروازے پر گئی اور دروازہ کھولا اور جو کچھ دیکھا تھا بیان کر دیا۔ ابو طالب (ع) نے فرمایا:"وہ یقینا نبی ہیں اوران کے وزیر تیس سال بعد آپ کے ہاں تشریف لائیں گے"۔ بشارتِ مرتضٰی :ایک روز آپ فواطم بنی ہاشم میں تشریف فرما تھیں۔ اور گفتگو فرما رہی تھیں کہ رسول اللہ نور روشن کے ساتھ تشریف لائے۔ چند کاہن انہیں دیکھتے آپ (ص) کے پیچھے وہاں پہنچ گئے اور فواطم بنی ہاشم سے آپ کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے بتایا: "یہ انتہائی عظمت و شرف اور بلند ترین فضل و کمال کے مالک حضرت محمد (ص) ہیں"۔ کاہن نے ان خواتین کو آپ (ص) کی عظمت اور بلند مرتبہ کے بارے میں بشارت دی کہ مستقبل قریب میں آپ (ص) مبعوث بہ نبوت ہوں گے اور بلند و بالا منزل و رتبہ کے مالک ہوں گے۔ تم عورتوں میںسے جو ان کی بچپن کی کفالت کا شرف حاصل کریں گی وہ ایک ایسے فرزند کی کفالت کا بھی شرف حاصل کریں گی جو ان کے مدد گاروں اور ساتھیوں میں سے ایک ہو گا۔ وہ ان کے رازوں کا امین اور ان کا ساتھی ہو گا۔ دوستی و اخوت اور بھائی چارے کی بنا پر ان سے محبت کرے گا۔ حضرت فاطمہ بنت اسد (س) نے اس کاہن کو بتایا: "میں ان کے تایا کی زوجہ ہوں۔ وہ ان کے بارے میں ہر وقت فکر مند اور پر امید رہتے ہیں۔ یہ میری کفالت میں ہیں"۔ اس نے کہا، "عنقریب آپ ایک بہت بڑے عالم اور اپنے پروردگار کی اطاعت کرنے والے بیٹے کو جنم دیں گی، جن کا نام تین حروف پر مشتمل ہو گا۔ وہ اس نبی (ص) کے تمام معاملات اور امور میں ولی ہوں گے اور ہر چھوٹے بڑے کام میں ان کی مدد کریں گے۔ وہ ان کے دشمنوں کے لئے تلوار ہوں گے اور دوستوں کے لئے دروازہ اور باب ہوں گے۔ وہ آپ (ص) کے چہرہ مبارک سے پریشانیوں کو دور کریں گے۔ ظلمت و تاریکی کی گھٹاؤں کو دور کریں گے۔ گہوارے ہی میں بہادری و حملہ، رعب اور دبدبہ پیدا کرنے والے ہوں گے۔ لوگ [دشمنان اسلام] ان کے خوف سے کانپیں گے۔ آپ (ع) کے بہت زیادہ فضائل و مناقب اور بلند و بالا مقام و مرتبہ ہو گا۔ وہ ان کی اطاعت میں ہجرت کریں گے۔ اپنی جان سے بڑھ کر ان کی حفاظت کے لئے جہاد کریں گے۔ وہی آپ (ص) کی وصیت کے مطابق انہیں ان کے کمرے میں دفن کریں گے"۔ سیدہ کا خواب :سیدہ (س) فرماتی ہیں کہ میں یہ سن کر سوچ و بچار میں پڑ گئی۔ را ت خواب میں دیکھا کہ شام کے پہاڑ رینگتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے اوپر لوہے کی چادریں تنی ہیں اور ان کے سینوں سے خوفناک قسم کی چیخوں کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور وہ تیزی سے مکہ کے پہاڑوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مکہ کے پہاڑ بھی جوابا ًاسی طرح چیخ و پکار کی صورت میں خوفناک آوازیں بلند کر رہے ہیں جس طرح تیز دھار آلہ کی آواز ہو۔ کوہ ابو قبیس گھوڑے نگل رہا ہے۔ اس کی بلند چوٹی دائیں بائیں گر رہی ہے۔ لوگ اس وجہ سے گر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی چار تلواریں اور ایک لوہے کا انڈہ جس پر سونا چڑھا ہوا ہے گرے۔ ان میں سے سب سے پہلے جو مکہ میں داخل ہوا اس کے ہاتھ سے تلوار پانی میں گری اور ڈوب گئی۔ دوسری تلوار ہوا میں اڑی اور اڑتی ہی گئی۔ تیسری زمین پر گری اور ٹوٹ گئی۔ چوتھی میرے ہاتھ میں تنی رہی۔ وہ میرے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ نوجوان کی صورت میں ڈھل گئی جو خوفناک شیر کی طرح بن گیا۔ وہ میرے ہاتھ سے نکلا اور پہاڑوں کی طرف چلا گیا اور ان کے پیچھے پیچھے رہا۔ ان کی چٹانوں کو توڑتا رہا۔ لوگ یہ دیکھ کر ڈرتے رہے اور خوفزدہ ہو کر بھاگتے رہے۔ یہاں تک کہ حضرت محمد تشریف لائے۔ انہوں نے اسے گردن سے پکڑ لیا، جس سے وہ ایک مانوس اور پیار کرنے والے ہرن کی طرح رام ہو گیا۔ میں خواب سے بیدار ہو گئی۔ مجھ پر تھکان اور خوف نے غلبہ کر لیا۔ میں نے اس کی تعبیر دریافت کی تو بتایا گیا، "آپ کے ہاں چار صاحبزادے اور ان کے بعد دو بیٹیاں پیدا ہو ں گی۔ بیٹوں میں ایک غرق ہو جائے گا، دوسرا جنگ میں قتل ہو جائے گا، تیسرے کو موت آئے گی، ان کے بعد ایک باقی رہ جائے گا جو مخلوق خدا کا امام قرار پائے گا۔ وہ صاحب سیف ہو گا اور بہت بڑی فضیلت کا مالک ہو گا۔ نبیء مبعوث کی بہت احسن طریقہ سے اطاعت کرے گا "۔ سیدہ فرماتی ہیں، "میں سوچتی رہی یہاں تک کہ تین لڑکے طالب، عقیل اور جعفر متولد ہوئے۔ پھر علی کے مقدس وجود کی امینہ بنی۔ یہاں تک کہ وہ مہینہ جس میں ان کی ولادت ہوئی میں نے خواب میں لوہے کا ایک ستون دیکھا جو میرے سر کے اوپر سے بلند ہوا، پھر ہوا میں پھیل گیا اورآسمان تک پہنچ گیا۔ پھر میری طرف لوٹا۔ میں نے کہا یہ کیا ہے ؟، مجھے بتایا گیا کہ کافروں کا قتل کرنے والا، مدد کا وعدہ پورا کرنے والا، ان کی جنگ بہت شدید ہو گی جس کے خوف سے لوگ ڈریں گے۔ وہ اللہ کے نبی کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد اور ان کے دشمنوں کے خلاف اللہ کی تائید ہے "۔ اس کے بعد میرے ہاں علی تشریف لائے "۔ خصائل وخصائص:سیدہ فاطمہ بنت اسد تاریخ اسلام میںانتہائی اہم حیثیت رکھتی تھیں۔ ذات واحد پر ایمان کامل اور تقویٰ و پر ہیز گاری کی زندگی بسر فرمائی۔ انبیائے ماسبق اور ان پر نازل ہونے والی کتب اور ہدایات پر یقین رکھتے ہوئے عمل پیرا تھیں۔ آپ کے شوہر نامدار، سیدنا ابوطالب عبدمناف بن عبدالمطلب، وارث انبیاء ومرسلین تھے۔ سیدہ فاطمہ بنت اسد مستجاب الدعواۃ تھیںاور آپ کے دہن اقدس سے نکلی ہر بات سریع الاثر اجابت رکھتی تھی۔ چار دیواری میں تمام زندگی گزار دینے کے باوجود آپ ایک مثالی خاتون تھیں۔ انہوں نے اپنے شوہر اور اولاد اور سب سے بڑھ کر آنحضرت کا بے حد خیال رکھا۔ ہر محاذ پہ سیدنا ابو طالب کا مکمل ساتھ دیا اور حضرت محمد مصطفٰی کی حفاظت و خدمت گزاری کی اور مادرانہ شفقت و محبت کا بے مثال مظا ہرہ فرمایا جس کے باعث آنحضرت آپ کے انتہائی ممنون و عقیدت مند رہے۔ ام المومنین سیدہ خدیجہ الکبریٰ کے بعد آپ دوسری خاتون ہیں جنہوں نے سرکار دوعالم کے دست اقدس پر بیعت فرمائی۔ لِیْ خَمْسَۃ ٌ:سیدہ فاطمہ بنت اسد کی نورانی آغوش میں پنجتن پاک کی پرورش ہوئی۔ سیدنا محمد مصطفٰی، سیدنا علی المرتضٰی، سیدہ فاطمہ الزہرا، سیدنا امام حسن مجتبیٰ اورسیدنا اما م عالیمقام حسین شہید کربلا ، آپ کی آغوش عاطفت میں پروان چڑھے۔ یہ اعزاز کامل آپ کی انفرادیت ہے اور کوئی دوسری خاتون اس میں آپ کی شریک نہیں۔ آپ مہاجرین مدینہ میں سے ہیں۔ سیرتِ فرزندہا از امہات :سیدنامصطفٰی و مرتضٰی، آپ ہی کی تربیت کا ثمر تھے۔ آپ کے شوہرنامدار سیدناابو طالب اسلام کے عظیم ترین محافظ اول اور ناصر رسول تھے۔ سیدہ فاطمہ بنت اسد نے حضور کی خدمت و محافظت میں حضرت ابو طالب کا ہاتھ بٹایا۔ سیدنا محمد مصطفٰی اوائل عمری ہی میں آغوش مادری سے جدا ہو گئے تھے مگر سیدہ فاطمہ بنت اسد کی صورت میں آپ کو ماں کی گود نصیب ہوئی۔ اسطرح آپ مامتا کے پیار سے محروم نہیں ہوئے۔ سیدہ فاطمہ بنت اسد نے مسائل کی پرواہ کئے بغیر آپ کا بچپن، لڑکپن اور جوانی میںہر ممکن خیال رکھا۔ اور اس بات کو یقینی بنایا کہ آپ کی خدمت میں بہترین چیز پیش کی جائے۔ نفیس ترین لباس پہنایا اور مرغوب ت
14 جون 2011 - 19:30
News ID: 247537
تیرہ رجب المرجب 1430ھ، امیر المومنین امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے 1452ویں یوم ولادت پر صارفین و قارئین کو مبارک باد عرض ہے۔